ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہر کی ترقی کے گرانٹس کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی مخالفت،بی بی ایم پی اتحادختم کردینے جنتادل (ایس) کی دھمکی

شہر کی ترقی کے گرانٹس کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی مخالفت،بی بی ایم پی اتحادختم کردینے جنتادل (ایس) کی دھمکی

Tue, 20 Dec 2016 12:17:23    S.O. News Service

بنگلورو۔19؍دسمبر(ایس او نیوز) شہر کی ترقی کیلئے حکومت کی طرف سے نگروتھانہ پراجکٹ کی طرف سے بی بی ایم پی کو دئے جانے والے فنڈز پر کام بی بی ایم پی اور اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے ذریعہ کرانے کی بجائے راست طور پر حکومت کی طرف سے ٹنڈر طلب کرنے اور خود فیصلہ کرنے کے اقدام کی جنتادل (ایس) نے سخت مخالفت کی ہے اور اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جنتادل (ایس) کی طرف سے آج ڈپٹی میئر ایم آنند ، سابق ڈپٹی میئر ہیما لتا اور اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی چیر پرسنس منجولا نارائن سوامی، نیترا نارائن اور ناظمہ خانم نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نگر وتھانہ پراجکٹ کے تحت گرانٹس کے استعمال کیلئے حکومت کی طرف سے قائم اعلیٰ افسران کی کمیٹی فوراً برخاست کی جائے اور یہ ذمہ داری بی بی ایم پی کونسل اور اسٹانڈنگ کمیٹیوں کو برقرار رکھی جائے۔ جنتادل (ایس) نے دھمکی دی ہے کہ حکومت نے فوری طور پر ایک ہفتے کے اندر اگر یہ حکم واپس نہیں لیاتو جنتادل (ایس) کے تمام اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے چیرمین استعفیٰ دے دیں گے۔ ریاستی حکومت نے نگر وتھانہ پراجکٹ کے تحت شہر کی ترقی کیلئے 7300کروڑ روپیوں کی رقم مختص کی ہے اور وہ ترقیاتی کاموں کیلئے یہ فنڈز جاری کرنے کیلئے سرکاری افسران پر مشتمل ایک سنگل ونڈو ایجنسی قائم کرنا چاہتی ہے۔ جنتادل (ایس) نے اس پہل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ اقدام دراصل عوامی رقم کو لوٹنے کیلئے اٹھایا گیا ہے، فوری طور پر حکومت یہ حکم واپس لے۔ انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی نے بلدی اداروں کو بااختیار بنانے کیلئے آئین کی74 ویں ترمیم منظور کروائی تھی، لیکن ریاست کی کانگریس حکومت اس ترمیم کے برعکس کام کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے اس اقدام سے بی بی ایم پی کے سبھی 198 کارپوریٹروں کی حق تلفی ہوگی۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف جنتادل (ایس) نے کل بی بی ایم پی کے روبرو احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔اس اخباری کانفرنس میں رکن کونسل ٹی اے شرونا ، جنتادل (ایس) گروپ کی لیڈر رمیلا اوما شنکر وغیرہ موجود تھے۔


Share: